Jabir ibn Hayyan

جابر بِن حیان

جدید کیمیا کے بانی، جابر بن حیان۔

مسلمان سائنسدانوں نے جو تحقیقات اور عملی کام کیے ان کا جدیدسائنس کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ آج ہم ایک کیمیا (کیمسٹری) کے بلند پایہ سائنسدان کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جن کا نام جابر بِن حیان ہے۔ آپ کا پورا نام ابو موسیٰ جابر بن حیان تھا۔ آپ خراسان کے علاقے، طوس میں۷۲۲ء میں پیدا ہوئے۔ یمن سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ جوانی میں کوفہ کے شہر منتقل ہو گۓ اور الكيمی کے پیشے کو اپنا لیا۔ الکیمی کے پیشے کےسلسلے میں آپکے والد اور استاد، جافر ابن صادق کا بڑا عمل دخل رہا۔

آپ کو بے شمار کتب اور رسائل لکھنے اور جدید کیمیا کی بنیاد رکھنے کی وجہ سے باباۓ کیمیا (Father of Chemistry) بھی کہا جاتا ہے۔ جابر بن حیان کے کارناموں میں سب سے مشہور عملِ تقطیر (Distillation) ، یعنی مائعات کو بخارات میں تبدیلی کے عمل، کی ایجاد ہے۔ یہ وہ اہم تکنیک ہے جس کے ذریعے نہ صرف خام تیل سے مختلف اشیاء بنائی جاتی ہیں بلکہ اس کو پرفیوم کی صنعت سے لے کر مشروبات کے کارخانوں تک استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کے شاندار کارناموں کی بدولت آج ۱۳۰۰ء سال بعد بھی دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

جابر بن حیان نے علم کیمیا کو عملی جامہ پہنایا اور کیمیائی تجربہ گاہوں میں استعمال ہونے والے آلات متعارف کروائے۔ آپ نے ۱۱۲ سے زائد کتابیں لکھیں تا کہ آج کا دور آپ کی عظیم الشان تحقیقات سے لاعلم نہ ره جائے۔ ہمیں آج بھی سائنس کے تقریباً ہر شعبے میں جابر بن حیان کی ایک اہم جھلک نظر آتی ہے۔ یہ چراغ ۸۱۵ء میں گل ہو گیا۔ لیکن آپ اسی اسلام کے سپوت ہیں جس کی ابتداء لفظ اقراء سے ہوئی اور  جوتاحیات چراغ علم کا کام سر انجام دیتا رہے گا۔

Written by: